کہنے والے ترے عارض کو کنول کہتے ہیں
کہنے والے ترے عارض کو کنول کہتے ہیں
ہم اسے دیکھ کے نظروں میں غزل کہتے ہیں
اپنے ہمراہ لئے جاتے ہیں مرنے والے
ایک ہی چیز جسے فرد عمل کہتے ہیں
جس کو اپنا نہ کہا عمر بھر اس کے نہ ہوئے
آپ جو بات بھی کہتے ہیں اٹل کہتے ہیں
حضرت شیخ مسائل سے تو واقف ہیں مگر
وہی غائب ہے جسے ذوق عمل کہتے ہیں
جس کا ممنون کرم امن و اماں ہوتا ہے
ہم حقارت سے اسے جنگ و جدل کہتے ہیں
یاد محبوب اگر شکل میں ڈھل جاتی ہے
دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں
آپ کہہ دیجے حریفان سخن سے یہ عدیلؔ
جو سخنور ہیں وہ اس طرح غزل کہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.