Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کہنے والے ترے عارض کو کنول کہتے ہیں

نظیر علی عدیل

کہنے والے ترے عارض کو کنول کہتے ہیں

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    کہنے والے ترے عارض کو کنول کہتے ہیں

    ہم اسے دیکھ کے نظروں میں غزل کہتے ہیں

    اپنے ہمراہ لئے جاتے ہیں مرنے والے

    ایک ہی چیز جسے فرد عمل کہتے ہیں

    جس کو اپنا نہ کہا عمر بھر اس کے نہ ہوئے

    آپ جو بات بھی کہتے ہیں اٹل کہتے ہیں

    حضرت شیخ مسائل سے تو واقف ہیں مگر

    وہی غائب ہے جسے ذوق عمل کہتے ہیں

    جس کا ممنون کرم امن و اماں ہوتا ہے

    ہم حقارت سے اسے جنگ و جدل کہتے ہیں

    یاد محبوب اگر شکل میں ڈھل جاتی ہے

    دیکھنے والے اسے تاج محل کہتے ہیں

    آپ کہہ دیجے حریفان سخن سے یہ عدیلؔ

    جو سخنور ہیں وہ اس طرح غزل کہتے ہیں

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے