یہ کیا کہ نیند آ گئی ہم کو دم سحر
یہ کیا کہ نیند آ گئی ہم کو دم سحر
اس صبح کے لیے ہی تو جاگے تھے رات بھر
کچھ اس طرح سے وہ مرے ہم راہ چل پڑا
دنیا سمجھ رہی ہے اسے میرا ہم سفر
کر لینا مجھ سے بات کبھی میں تو ہوں ابھی
یہ وقت جا رہا ہے ذرا اس سے بات کر
مایوسیوں کا عکس ہی ابھرا ہے بارہا
دیکھا ہے میں نے آس کی تصویر کھینچ کر
کتنا عجیب زاویہ تھا اس نگاہ کا
تفصیل دے گیا مجھے گو تھا وہ مختصر
جو مجھ کو روشناس کرے مجھ سے ہی عزیزؔ
میری نگاہ میں وہی لمحہ ہے معتبر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.