ویران پڑا ہے جو وہ گھر دیکھ رہا ہوں
ویران پڑا ہے جو وہ گھر دیکھ رہا ہوں
جانے کا ترے آج اثر دیکھ رہا ہوں
آنگن میں تجھے اپنے مگر دیکھ رہا ہوں
جیسے کہ میں صحرا میں شجر دیکھ رہا ہوں
بلبل کو ہے اب قید میں جینا یہ سمجھ لے
صیاد کی ترچھی میں نظر دیکھ رہا ہوں
ہر شام سر بام ٹہلتی ہے حسینہ
بچ پائے گا کیسے یہ نگر دیکھ رہا ہوں
ہیں لوگ ہزاروں جو تجھے دیکھ رہے ہیں
میں گل پہ تری ٹھہری نظر دیکھ رہا ہوں
دل تیر سے زخمی ہے مگر درد نہیں ہے
قاتل کی ادا اس کا ہنر دیکھ رہا ہوں
تنہا ہوں سفر پر ہے فقط چاند کا سایا
مل جائے کوئی راہ گزر دیکھ رہا ہوں
جانے سے ترے حال ہے افسردہ یہ دل کا
صحرا میں کبھی دشت میں گھر دیکھ رہا ہوں
جس طرح نشے میں کوئی محبوب کو دیکھے
میں رات کا جاگا ہوں سحر دیکھ رہا ہوں
اس عشق میں مجنوں کی قبا اوڑھ لی میں نے
لیلیٰ ہے کدھر اور کدھر دیکھ رہا ہوں
عماؔن نے غزلوں میں لیا نام جو تیرا
ہے ذکر ترا اب میں جدھر دیکھ رہا ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.