وادیٔ عشق سے ہوتے ہوئے جانے کے لئے
وادیٔ عشق سے ہوتے ہوئے جانے کے لئے
دل لرزتا ہے مرا ٹھوکریں کھانے کے لئے
پھر مصور نے کئی رنگ بھرے ہیں اس میں
میرے کردار کو تصویر میں لانے کے لئے
جو ملاتا تھا تجھے مجھ سے خطوں کے ذریعے
وہ کبوتر نہ رہا خط ترے لانے کے لئے
اب محبت میں کشش بھی نہیں پہلے جیسی
کوئی کاندھا بھی نہیں اشک بہانے کے لیے
ہم نے مانگا ہی نہیں تجھ کو دعاؤں میں کبھی
بس ترا نام لیا یاد دلانے کے لئے
ڈھونڈتے ڈھونڈتے میں تھک سا گیا ہوں ظاہرؔ
اس سا مل جائے کوئی دل کو لبھانے کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.