اس کا ارمان اس کی حسرت کیا
اس کا ارمان اس کی حسرت کیا
وہ نہیں ہے تو پھر محبت کیا
آپ دل کے مکین ہو گئے ہیں
آپ کو اب کوئی اجازت کیا
ہجر جب دائمی سا ہو جائے
سانس لینے کی پھر ضرورت کیا
مارنا ہے تو مار ڈالو مجھے
اس قدر عشق میں مروت کیا
ایک دیوانگی سی سر میں ہے
بن گئی ہے یہ میری عادت کیا
کان رکھ کر زمین پر دیکھو
آ رہی ہے صدائے الفت کیا
آج کل کوئی مشغلہ ہی نہیں
ہے اسی شے کا نام فرصت کیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.