تو ہمیں جب کبھی یاد آئے
تو ہمیں جب کبھی یاد آئے
پیت کی چاندنی یاد آئے
بھولنا چاہا ایک آشنا کو
سینکڑوں اجنبی یاد آئے
پیار زنجیر جاں بن گیا ہے
درد کی ہر کڑی یاد آئے
دیکھ آئے ہیں سب کوئے قاتل
اب کسے زندگی یاد آئے
کیا ہوئیں جگنوؤں سی وہ آنکھیں
رات برسات کی یاد آئے
ذکر جب کوئی چھیڑے چمن کا
پنکھڑی پنکھڑی یاد آئے
شام غربت کا یہ گھپ اندھیرا
شکل وہ چاند سی یاد آئے
جب کروں میں زمانے کا شکوہ
بھول اپنی کوئی یاد آئے
دیکھ کر موسلا دھار بارش
اپنی تشنہ لبی یاد آئے
غم تو بچھڑے ہوؤں کا ہے لیکن
اک نیا شخص بھی یاد آئے
تھا قتیلؔ آخری دوست اپنا
وہ بھلا آدمی یاد آئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.