تم تو کہتے ہو کہ ہے سارا جہاں میرے لیے
تم تو کہتے ہو کہ ہے سارا جہاں میرے لیے
کیوں نہیں ملتا ہے پھر اک مہرباں میرے لیے
میں اسی رستے پہ چل کر اپنی منزل پاؤں گا
چھوڑ کر جس پر گئے ہیں وہ نشاں میرے لیے
لوٹ کر میں آؤں گا اک روز تیرے واسطے
اتنی کیوں بے چین ہے اے جان جاں میرے لیے
جلوۂ جاناں سے روشن ہو گیا ہے میرا دل
ہے اندھیری رات اب تو کہکشاں میرے لیے
روز مل جاتی ہے مجھ کو کامیابی کی ڈگر
روز ہوتا ہے نیا اک امتحاں میرے لیے
آپ ہی نے پھیر لی مجھ سے نگاہ ملتفت
آپ ہی تو تھے فقط اک سائباں میرے لیے
میں تو ان کے گیسوئے خم دار میں الجھا رہا
مے کدے سے روز آتی ہے اذاں میرے لیے
میں زمیں پر ہوں مگر میری اڑانیں دیکھ کر
رات دن گردش میں ہیں سات آسماں میرے لیے
دیکھ کر اس بے وفا کو ہو گیا احساس اب
میں تو ہوں اس کے لیے اور وہ کہاں میرے لیے
ہاں وہی اک شخص تھا رونق مرے گھر بار کی
وہ گیا تو کچھ نہیں میرا مکاں میرے لیے
یوں تو سب ہمدرد ہیں لیکن حقیقت میں نظامؔ
شہر میں کوئی نہیں ہے مہرباں میرے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.