تھا جنوں کتنا میری چاہت میں
تھا جنوں کتنا میری چاہت میں
ظلم سہتا ہوں اب محبت میں
دیکھ کر خود کو میں ہوا حیراں
کتنا بدلا ہوں اس کی چاہت میں
دور جانے سے کچھ نہیں بدلا
بس اضافہ ہوا اذیت میں
اب میں اتنا ہی چاہتا ہوں بس
موت لکھ دوں میں اپنی قسمت میں
بے وفائی اگر نہ کی ہوتی
منہ چھپاتے نہیں ندامت میں
کوئی تھا ہی نہیں وہاں میرا
سارے بولے تری حمایت میں
جو سجائی تھی شوق سے میں نے
مر گیا ہوں اسی عمارت میں
روز خود کو بدلتے رہتے ہو
رنگ کتنے ہیں تیری رنگت میں
مجھ کو اب زہر دیجیے کوئی
فرق آیا نہیں طبیعت میں
جن کو پالا تھا اپنے ہاتھوں سے
کام آئے نہیں مصیبت میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.