Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تھا جنوں کتنا میری چاہت میں

محمد معظم موج

تھا جنوں کتنا میری چاہت میں

محمد معظم موج

MORE BYمحمد معظم موج

    تھا جنوں کتنا میری چاہت میں

    ظلم سہتا ہوں اب محبت میں

    دیکھ کر خود کو میں ہوا حیراں

    کتنا بدلا ہوں اس کی چاہت میں

    دور جانے سے کچھ نہیں بدلا

    بس اضافہ ہوا اذیت میں

    اب میں اتنا ہی چاہتا ہوں بس

    موت لکھ دوں میں اپنی قسمت میں

    بے وفائی اگر نہ کی ہوتی

    منہ چھپاتے نہیں ندامت میں

    کوئی تھا ہی نہیں وہاں میرا

    سارے بولے تری حمایت میں

    جو سجائی تھی شوق سے میں نے

    مر گیا ہوں اسی عمارت میں

    روز خود کو بدلتے رہتے ہو

    رنگ کتنے ہیں تیری رنگت میں

    مجھ کو اب زہر دیجیے کوئی

    فرق آیا نہیں طبیعت میں

    جن کو پالا تھا اپنے ہاتھوں سے

    کام آئے نہیں مصیبت میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے