Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تنہائیوں میں ہوں کہ پذیرائیوں میں ہوں

باسط پتافی

تنہائیوں میں ہوں کہ پذیرائیوں میں ہوں

باسط پتافی

MORE BYباسط پتافی

    تنہائیوں میں ہوں کہ پذیرائیوں میں ہوں

    شاید کہ اب کی بار تماشائیوں میں ہوں

    مجھ کو نہیں خبر کہ کہاں ہے مرا وجود

    اس کو یہ لگ رہا ہے کہ گہرائیوں میں ہوں

    میں خود پہ خندہ زن ہوں مرے آئنہ جمال

    یوسف نہیں ہوں پھر بھی زلیخائیوں میں ہوں

    میں کل ستم زدہ تھا کسی مصر میں مگر

    اب ایسا زخم ہوں جو مسیحائیوں میں ہوں

    کیا خوب ہے کہ کل تو گناہوں میں مست تھا

    کیا بات ہے کہ آج میں اچھائیوں میں ہوں

    وحشت کے ایسے دور بھی آتے ہیں دشت میں

    مجھ کو تو ایسا لگتا ہے یکتائیوں میں ہوں

    رستے میں چار لوگ مجھے گھورتے ہوئے

    یوں لگ رہا ہے جیسے میں بینائیوں میں ہوں

    وہ شخص میرے سامنے دم توڑتا ہوا

    باسطؔ مگر میں پھر بھی شکیبائیوں میں ہوں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے