تنہائیوں میں ہوں کہ پذیرائیوں میں ہوں
تنہائیوں میں ہوں کہ پذیرائیوں میں ہوں
شاید کہ اب کی بار تماشائیوں میں ہوں
مجھ کو نہیں خبر کہ کہاں ہے مرا وجود
اس کو یہ لگ رہا ہے کہ گہرائیوں میں ہوں
میں خود پہ خندہ زن ہوں مرے آئنہ جمال
یوسف نہیں ہوں پھر بھی زلیخائیوں میں ہوں
میں کل ستم زدہ تھا کسی مصر میں مگر
اب ایسا زخم ہوں جو مسیحائیوں میں ہوں
کیا خوب ہے کہ کل تو گناہوں میں مست تھا
کیا بات ہے کہ آج میں اچھائیوں میں ہوں
وحشت کے ایسے دور بھی آتے ہیں دشت میں
مجھ کو تو ایسا لگتا ہے یکتائیوں میں ہوں
رستے میں چار لوگ مجھے گھورتے ہوئے
یوں لگ رہا ہے جیسے میں بینائیوں میں ہوں
وہ شخص میرے سامنے دم توڑتا ہوا
باسطؔ مگر میں پھر بھی شکیبائیوں میں ہوں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.