شجر کہیں پر کوئی دکھائی پڑے تو پل بھر ٹھہر بھی جائے
شجر کہیں پر کوئی دکھائی پڑے تو پل بھر ٹھہر بھی جائے
مسافر دل کو منزل جاں ملے تو خوئے سفر بھی جائے
کہا تھا کس نے کہ ہاتھ تھامو ہوا کا اے برگ خشک و خستہ
ہوا کی مرضی ہے اب تو پیارے جہاں بھی جائے جدھر بھی جائے
ملے گا جب وہ نہ جانے اس وقت صورت حال کیا ہو دل کی
کہ مثل تقدیر مفلساں ہے بگڑ بھی جائے سنور بھی جائے
یہ کیا ستم ہے کہ ہم پہ لگتی ہے جب بھی لگتی ہے کوئی تہمت
کبھی تو اے شہر کوئی الزام شہر یاروں کے سر بھی جائے
صدا لگانے میں عذر کوئی نہیں مجھے منصفوں کے در پر
مگر کوئی راہ کوئی رستہ کوئی گلی ان کے گھر بھی جائے
چلا تو ہوں اس کے در پہ ایفائے عہد کی آس لے کے لیکن
وہی نہ ہو اس گداگری میں قلندری کا ہنر بھی جائے
غروب کے وقت سے چھتوں پر کھڑے کھڑے لوگ تھک گئے ہیں
گزرنے والا ہے کوئی سیلاب شہر سے تو گزر بھی جائے
جہاں مرا کھیت تھا وہاں ریت ڈالتا جا رہا ہے پانی
مرے لیے فرق کیا پڑے گا جو اب یہ دریا اتر بھی جائے
بسی ہوئی اس کی نکہتوں میں ہوا اسی طرح چل رہی ہے
چلا گیا ہے وہ باغ دل سے تو اس کا پیغامبر بھی جائے
فراق میں جس کے تھمتے تھمتے بچا ہے دل جب وہ بے خبر ہے
تو پھر مجھے کیا مری بلا سے اگر دل زندہ مر بھی جائے
اسے بہت دکھ ہے میری تنہائیوں کا میں جانتا ہوں لیکن
اگر وہ تنہا ہوا اور اس کو پکار لوں میں تو ڈر بھی جائے
ابھی تو محفوظ ہے کتاب حیات میں پھول تیرے غم کا
ورق ہوائے فنا نے الٹے کبھی تو شاید بکھر بھی جائے
افق کے اس پار شہر خورشید میں سحر منتظر ہے میری
وہ کہہ رہے ہیں کہ دیکھ لوں میں مگر وہاں تک نظر بھی جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.