سچ ہے کہ وہ میدان میں جیتا بھی نہیں تھا
سچ ہے کہ وہ میدان میں جیتا بھی نہیں تھا
ظالم سے مگر جنگ میں ہارا بھی نہیں تھا
جس طرح مجھے چھوڑا تھا اچھا بھی نہیں تھا
جو اس نے دیا مجھ کو وہ دھوکہ بھی نہیں تھا
ہر وقت مرے ساتھ تھیں اس شخص کی یادیں
تنہا بھی رہا اور میں تنہا بھی نہیں تھا
آنکھوں میں جدائی کا اثر صاف تھا لیکن
جاتے ہوئے اس نے مجھے روکا بھی نہیں تھا
یہ درد کی سوغات وہ کیوں دے کے گیا ہے
اس درجہ تو اس شخص کو چاہا بھی نہیں تھا
طوفان مرے قد کے نہیں آیا برابر
تم چھوڑ گئے اور میں ڈوبا بھی نہیں تھا
اس رسم وداعی کی ضرورت تھی ابھی کیا
جی بھر کے ابھی آپ کو دیکھا بھی نہیں تھا
کیوں اس کے لیے بھیگ رہی ہیں مری آنکھیں
جس شخص سے میرا کوئی رشتہ بھی نہیں تھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.