روشنی میں سفر میں رہتے ہیں
روشنی میں سفر میں رہتے ہیں
وقت کی رہگزر میں رہتے ہیں
شہر میں بود و باش ہے اپنی
شب گزاری کو گھر میں رہتے ہیں
جو ملے تھے ہمیں کتابوں میں
جانے وہ کس نگر میں رہتے ہیں
در و دیوار سے نکل کر ہم
فکر دیوار و در میں رہتے ہیں
چونک پڑتے ہیں اپنی چاپ سے لوگ
دشت وحشت اثر میں رہتے ہیں
لفظ کو جھوٹ سچ کی دے کے سند
خود صف معتبر میں رہتے ہیں
بے پناہی کے خوف سے لرزاں
اپنے تن کے شجر میں رہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.