رہا آخرت سے میں بے خبر یوں جہان باغ و بہار میں
رہا آخرت سے میں بے خبر یوں جہان باغ و بہار میں
کبھی خوشبوؤں کے سفر میں تھا کبھی جگنوؤں کی قطار میں
تری درس گاہ میں تھا مگر نہ تھی روح شامل گفتگو
مجھے خوش روی بھی بری لگی وہ کمی تھی دل کے قرار میں
سر خامشی یہ سجاوٹیں اسی رنگ و بو کی مثال ہیں
جو مہک ہو قبر کے پھول میں جو چمک ہو شمع مزار میں
وہ چمن تھا منبع رنگ و بو کئی پھول تھے سر بوستاں
وہ جو خوشبوؤں کی مثال ہوں کوئی ایک دو تھے ہزار میں
مری بات رازیٔؔ نکتہ چیں جو بری لگے تو خموش رہ
تو یہ عمر یوں ہی گنوا نہ دے مری لغزشوں کے شمار میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.