مجھے بے چین رکھا ہے مسلسل ان سوالوں نے
مجھے بے چین رکھا ہے مسلسل ان سوالوں نے
نہیں سونے دیا مجھ کو ستمگر کے خیالوں نے
کروں گا رخ نہیں اے عشق تیری سمت دوبارہ
بہت بد نام کر ڈالا ہے تیرے شہر والوں نے
میں تنہا رات بھر بیٹھا رہا دیوار سے لگ کر
دیا مجھ کو سہارا رات بھر ان مے کے پیالوں نے
سکوں ملتا ہے مجھ کو ہوں مسافر میں اندھیروں کا
رکھا خاموش مجھ کو عمر بھر دن کے اجالوں نے
نہ آیا ساتھ اپنا کوئی دعویٰ تھا محبت کا
نبھایا ساتھ صدیوں تک فقط ہاتھوں کے چھالوں نے
نہ ہے آساں نہ تھی ہموار رسم عشق دنیا میں
ہزاروں زخم کھائے ہیں محبت کرنے والوں نے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.