جذبۂ اخلاص کی ہرجا کمی محسوس ہو
جذبۂ اخلاص کی ہرجا کمی محسوس ہو
اب تو ہمسایہ بھی جیسے اجنبی محسوس ہو
کل کوئی آزر ملے ایسا کہ جس کے لمس سے
کیا عجب ان پتھروں میں زندگی محسوس ہو
اس لیے شمعیں جلائی ہیں سر نوک مژہ
آنے والوں کو بھی کچھ تو روشنی محسوس ہو
کرب کے رشتے سے سوچے آج کا انساں تو پھر
اجنبی چہروں سے بھی وابستگی محسوس ہو
جس کو دیکھو آپ میں گم دوسروں سے بے نیاز
انجمن میں آ کے بھی اک خامشی محسوس ہو
پیش گوئی ہم نے جو اشعار میں کی تھی کبھی
اب تو ہر جانب اسی کی گونج سی محسوس ہو
زندگی بھر کرب کی سولی پہ ہم لٹکے رہیں
دیکھنے والوں کو لیکن دل لگی محسوس ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.