جب زباں رکھی ہے میں نے حلقۂ زنجیر میں
جب زباں رکھی ہے میں نے حلقۂ زنجیر میں
تب کہیں آئی ہے شدت شعر کی تاثیر میں
کینوس پر ذہن کے تھے یاد کے پیکر عجیب
پردۂ ماضی سے نکلے چھپ گئے تصویر میں
دشمنوں کے خوف و وحشت کے لئے کافی رہی
جو کھنک باقی تھی زنگ آلود اس شمشیر میں
دفتر و بازار خالی ہر گلی میں خامشی
کیا خبر تھی یہ بھی دن تھے شہر کی تقدیر میں
چاند چھپ جاتا تھا اکثر بادلوں کے درمیاں
چاندنی شامل تھی پھر بھی شوخیٔ شب گیر میں
بے کراں ہیں لذتیں رازیؔ کسی بھی خواب کے
ٹوٹ جانے میں مکمل ہونے میں تاخیر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.