جب بھی خوابوں کا سفر یاد آیا
جب بھی خوابوں کا سفر یاد آیا
دل کا ایک ایک کھنڈر یاد آیا
جب بھی یاد آیا کوئی غنچہ دہن
مجھ کو خوشبو کا سفر یاد آیا
جب بھی دیکھا ہے خرابہ کوئی
ایک اپنا بھی تھا گھر یاد آیا
یوں بھی ہوگا نہ پریشان کوئی
دل کو تھاما تو جگر یاد آیا
جو دیا میں نے بجھا ڈالا ہے
جل مروں گا وہ اگر یاد آیا
دور وحشت بھی یونہی بیت گیا
ہاتھ یاد آئے نہ سر یاد آیا
جرم یہ ہے کہ رعایا ہوں میں
کیوں ہوا شہر بدر یاد آیا
دشت میں دیکھ کے قدموں کے نشاں
میں ہی آیا تھا ادھر یاد آیا
پھر وہی میں ہوں وہی شام و سحر
گھر سے گھر تک کا سفر یاد آیا
انتقاماً مجھے یاد آ جانا
میں کبھی تجھ کو اگر یاد آیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.