اس سے پہلے کہ میں گر جاؤں کسی کھائی میں
اس سے پہلے کہ میں گر جاؤں کسی کھائی میں
اپنی آواز ملاؤ مری بینائی میں
لفظ در لفظ وہ کھلنے کو تھا بے چین مگر
میں کہ الجھا رہا اسلوب کی رعنائی میں
مسکراہٹ تھی لبوں پر تو بدن پر لرزہ
ڈر بھی شامل تھا کہیں حوصلہ افزائی میں
ملنے والا نہیں کچھ گوہر مقصود انہیں
جو تفخر لیے بیٹھے ہیں جبیں سائی میں
سر اٹھاتی ہے مرے دل میں یہ خواہش اکثر
تو کبھی آ کے مخل ہو مری تنہائی میں
اے بدن اوڑھنے والے تجھے اک بات کہوں
جھانک کر دیکھ کبھی روح کی گہرائی میں
ہر تعلق ہے طلائی ترا اور میں نادار
کیسے اپناؤں تجھے زور کی مہنگائی میں
چاہتا ہوں مرا ہر شعر کھلے تجھ دل پر
ورنہ کیا رکھا ہے اس قافیہ پیمائی میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.