Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

حسن تھا جو ترے بام و در کا

قتیل شفائی

حسن تھا جو ترے بام و در کا

قتیل شفائی

MORE BYقتیل شفائی

    حسن تھا جو ترے بام و در کا

    زرد پتہ ہوں میں اس شجر کا

    میں نے سائے کو انسان جانا

    کھا گیا مجھ کو دھوکا نظر کا

    سب کریں چاند تاروں کی باتیں

    کوئی رستہ دکھائے نہ گھر کا

    ساتھ دے پیار تو دل سے دل تک

    فاصلہ ہے فقط اک نظر کا

    آ بسی میرے ویران دل میں

    شوق تھا روشنی کو سفر کا

    کر گیا کوچ میرے بھی دل سے

    جانے راہی تھا وہ کس نگر کا

    یہ ہماری محبت کے چرچے

    شور وادی میں جیسے گجر کا

    اصل ویرانیاں تو ہیں دل میں

    کب یہ نقشہ تھا دیوار و در کا

    اپنی اپنی عبادت ہے سب کی

    اپنا اپنا خدا ہر بشر کا

    کس کو ہے اب قتیلؔ اتنی فرصت

    کون ساتھی بنے عمر بھر کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے