حسن تھا جو ترے بام و در کا
حسن تھا جو ترے بام و در کا
زرد پتہ ہوں میں اس شجر کا
میں نے سائے کو انسان جانا
کھا گیا مجھ کو دھوکا نظر کا
سب کریں چاند تاروں کی باتیں
کوئی رستہ دکھائے نہ گھر کا
ساتھ دے پیار تو دل سے دل تک
فاصلہ ہے فقط اک نظر کا
آ بسی میرے ویران دل میں
شوق تھا روشنی کو سفر کا
کر گیا کوچ میرے بھی دل سے
جانے راہی تھا وہ کس نگر کا
یہ ہماری محبت کے چرچے
شور وادی میں جیسے گجر کا
اصل ویرانیاں تو ہیں دل میں
کب یہ نقشہ تھا دیوار و در کا
اپنی اپنی عبادت ہے سب کی
اپنا اپنا خدا ہر بشر کا
کس کو ہے اب قتیلؔ اتنی فرصت
کون ساتھی بنے عمر بھر کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.