حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا
حدود ضبط سے آگے بھی جا نہیں سکتا
مگر جو گزری ہے مجھ پر بتا نہیں سکتا
ترے وجود کو بخشی ہے دلکشی میں نے
بچھڑ کے مجھ سے تو خود کو بھی پا نہیں سکتا
ہزاروں تیر تو ان کی کماں سے آئے ہیں
زباں پہ نام بھی جن کا میں لا نہیں سکتا
اسی کو لوگ مرا ہم سفر سمجھتے ہیں
جو دو قدم بھی مرے ساتھ آ نہیں سکتا
مرے وجود میں پیوست ہیں تری یادیں
ترا خیال مرے دل سے جا نہیں سکتا
جو زخم تم نے دیئے تھے وہی ہرے ہیں ابھی
میں اور کوئی نیا زخم کھا نہیں سکتا
میں اپنے حال پہ اس درجہ ہنس چکا ماہرؔ
ترا لطیفہ بھی مجھ کو ہنسا نہیں سکتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.