ہم کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
ہم کو حسرت ہی رہی کوئی ہمارا ہوتا
کچھ تو تنہائی کی راتوں کا سہارا ہوتا
دل یہ ہوتا نہ کسی کا تو تمہارا ہوتا
عشق شاید جو کبھی ہم کو دوبارہ ہوتا
دل نے دیکھا ہی نہیں اور کسی کی جانب
ورنہ اس دور میں کوئی تو ہمارا ہوتا
گر نہ آتے تری آواز پہ شکوہ کرتا
تو نے اک بار محبت سے پکارا ہوتا
تم لکھے جاتے ہمارے بھی نصیبوں میں کبھی
ٹوٹا گر کوئی مقدر کا ستارہ ہوتا
مجھ کو درکار نہیں سارے جہاں کی دولت
مجھ کو بس تیری محبت کا سہارا ہوتا
دل سے اتری ہے کچھ اس طرح یہ دنیا الماسؔ
مر ہی جاتے ہم اجل کا جو اشارہ ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.