حجلۂ ذات سے تنہا نکلا
حجلۂ ذات سے تنہا نکلا
میرا غم خوار بھی مجھ سا نکلا
گر یہ روکا نہ گیا پلکوں سے
راستہ کاٹ کے دریا نکلا
رات کے بعد سحر بھی آئی
اپنا اک خواب تو سچا نکلا
کتنا ظالم نظر آیا تھا رقیب
وہ بھی مجبور تمنا نکلا
نکتہ چیں یعنی وہی اہل نظر
آنکھ رکھتے ہوئے اندھا نکلا
بے زری کھا گئی دل والوں کو
غم دل بھی غم دنیا نکلا
دل کی بات اور ہے دیکھا کس نے
جسم کا رنگ تو اجلا نکلا
در و دیوار تعاقب میں چلے
گھر سے میں جب بھی اکیلا نکلا
روشنی کر گئی مجھ کو تقسیم
جسم سے کب مرا سایا نکلا
تھا بہت شہر میں بدنام قتیلؔ
یار وہ شخص تو اچھا نکلا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.