دن کی پونجی ایک تھکن ہے رات بہت بیگانی ہے
دن کی پونجی ایک تھکن ہے رات بہت بیگانی ہے
آئینے میں صورت اپنی کچھ جانی پہچانی ہے
بے معنی سے ایک سفر کا قصہ جو طولانی ہے
کون سنا جاتا ہے مجھ کو کس کی رام کہانی ہے
عمر گریزاں سے کیا لینا لمحہ لمحہ بیت گیا
اس کا چہرہ یاد آتا ہے یاد اس کی لافانی ہے
جانی پہچانی راہوں پر ہم پہلے بھٹکے لیکن
منزل شاید پاس آ پہنچی راہ بہت انجانی ہے
ابر ہوا موسم کو لے کر پاس ترے آ بیٹھے ہیں
کچھ خاطر اپنی بھی کر لو دو دن کی مہمانی ہے
دل ٹھکرا کے کس دولت کے پیچھے بھاگے پھرتے ہو
دل کے سوا جتنی دولت ہے ساری آنی جانی ہے
اب تک یہ ہوتا آیا ہے آگے کا معلوم نہیں
اعظمیؔ صاحب اس کوچے میں آکر جان گنوانی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.