بلند ہوں میں کہاں اوج آسماں کی طرح
بلند ہوں میں کہاں اوج آسماں کی طرح
مرا وجود ہے بس خاک ناتواں کی طرح
مرے سفر کی نہ روداد پوچھیے مجھ سے
میں راہ شوق میں ہوں گرد کارواں کی طرح
میں کیسے ناز کروں اپنے آپ پر لوگو
ہے زندگی مری ٹوٹی ہوئی کماں کی طرح
یہ کیسا دور مرے سامنے چلا آیا
بہار بھی ہے یہاں موسم خزاں کی طرح
پڑھا تو اشک سے لبریز ہو گئیں آنکھیں
ہے داستان تری میری داستاں کی طرح
کسی دوا سے مٹا ہے نہ یہ مٹے گا کبھی
ہے درد عشق مرے دل میں مہرباں کی طرح
میں اپنی جان بھی دے کر کہوں گا اے آتشؔ
مجھے نہ پیار ملے گا کبھی یہاں کی طرح
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.