Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اندھیری راتوں میں پھر ساتھ میں اجالا گیا

احمد وصال

اندھیری راتوں میں پھر ساتھ میں اجالا گیا

احمد وصال

MORE BYاحمد وصال

    اندھیری راتوں میں پھر ساتھ میں اجالا گیا

    شجر لگائے جہاں پر پڑاؤ ڈالا گیا

    جو وقت ملتا تو کچھ اور کام کر لیتے

    ہمارے جیسوں سے بس عشق روگ پالا گیا

    ابھی جو ہاتھ ہیں ملتے ملول بیٹھے ہیں

    نہ اس کو روک ہیں پائے نہ دل سنبھالا گیا

    گلی گلی میں گھٹن نفرتوں کے ڈیرے بنے

    وفا کی رسموں کو جب شہر سے نکالا گیا

    ہوا اڑا کے چلی ہے بھرا غبارہ نہیں

    غریب شخص کے ہاتھوں سے اک نوالہ گیا

    غریب شہر کی روزوں نے لاج رکھ لی ہے

    اگرچہ فاقوں کا قصہ بہت اچھالا گیا

    نہیں تھی اس کی ضرورت کہ کمرہ خالی تھا

    سو آگے چابی چلی پیچھے پیچھے تالا گیا

    کبھی تو وقت نے ملنے نہیں دیا ہے مجھے

    کبھی بہانوں سے مجھ کو وصالؔ ٹالا گیا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے