اندھیری راتوں میں پھر ساتھ میں اجالا گیا
اندھیری راتوں میں پھر ساتھ میں اجالا گیا
شجر لگائے جہاں پر پڑاؤ ڈالا گیا
جو وقت ملتا تو کچھ اور کام کر لیتے
ہمارے جیسوں سے بس عشق روگ پالا گیا
ابھی جو ہاتھ ہیں ملتے ملول بیٹھے ہیں
نہ اس کو روک ہیں پائے نہ دل سنبھالا گیا
گلی گلی میں گھٹن نفرتوں کے ڈیرے بنے
وفا کی رسموں کو جب شہر سے نکالا گیا
ہوا اڑا کے چلی ہے بھرا غبارہ نہیں
غریب شخص کے ہاتھوں سے اک نوالہ گیا
غریب شہر کی روزوں نے لاج رکھ لی ہے
اگرچہ فاقوں کا قصہ بہت اچھالا گیا
نہیں تھی اس کی ضرورت کہ کمرہ خالی تھا
سو آگے چابی چلی پیچھے پیچھے تالا گیا
کبھی تو وقت نے ملنے نہیں دیا ہے مجھے
کبھی بہانوں سے مجھ کو وصالؔ ٹالا گیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.