عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے
عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے
ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے
تری گلی میں جو اکثر دکھائی دیتا ہے
کچھ اس کے پاؤں میں چکر دکھائی دیتا ہے
وہ اشک جس کا تسلسل ہے چشم آدم سے
وہ قطرہ ہو کے سمندر دکھائی دیتا ہے
وہ آدمی ہے بڑا ہو نظر بڑی جس کی
ہمالیہ اسے کنکر دکھائی دیتا ہے
عجب نہیں کہ ہو کوئی چھپا ہوا رہزن
جو رکھ رکھاؤ سے رہبر دکھائی دیتا ہے
جو کھینچتا ہے لکیریں فقط لکیروں پر
وہ اک فقیر سے بد تر دکھائی دیتا ہے
دکھا کے آس مجھے گھر کی تم کہاں لائے
یہاں تو ہر کوئی بے گھر دکھائی دیتا ہے
جو غم گسار ہے اس دور میں بھی لوگوں کا
وہ شخص کوئی پیمبر دکھائی دیتا ہے
جو دیکھنا ہو تو دیکھو پہاڑ پر چڑھ کر
ہر اک مکان کا منظر دکھائی دیتا ہے
کبھی ملے تھے وہ برگد تلے مگر اب تک
نظر نظر وہی منظر دکھائی دیتا ہے
بہت بڑا نظر آیا تھا کل جو ہم کو عدیلؔ
وہ آج ہم سے بھی کمتر دکھائی دیتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.