Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

نظیر علی عدیل

عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    عجیب شہر کا منظر دکھائی دیتا ہے

    ہر ایک ہاتھ میں خنجر دکھائی دیتا ہے

    تری گلی میں جو اکثر دکھائی دیتا ہے

    کچھ اس کے پاؤں میں چکر دکھائی دیتا ہے

    وہ اشک جس کا تسلسل ہے چشم آدم سے

    وہ قطرہ ہو کے سمندر دکھائی دیتا ہے

    وہ آدمی ہے بڑا ہو نظر بڑی جس کی

    ہمالیہ اسے کنکر دکھائی دیتا ہے

    عجب نہیں کہ ہو کوئی چھپا ہوا رہزن

    جو رکھ رکھاؤ سے رہبر دکھائی دیتا ہے

    جو کھینچتا ہے لکیریں فقط لکیروں پر

    وہ اک فقیر سے بد تر دکھائی دیتا ہے

    دکھا کے آس مجھے گھر کی تم کہاں لائے

    یہاں تو ہر کوئی بے گھر دکھائی دیتا ہے

    جو غم گسار ہے اس دور میں بھی لوگوں کا

    وہ شخص کوئی پیمبر دکھائی دیتا ہے

    جو دیکھنا ہو تو دیکھو پہاڑ پر چڑھ کر

    ہر اک مکان کا منظر دکھائی دیتا ہے

    کبھی ملے تھے وہ برگد تلے مگر اب تک

    نظر نظر وہی منظر دکھائی دیتا ہے

    بہت بڑا نظر آیا تھا کل جو ہم کو عدیلؔ

    وہ آج ہم سے بھی کمتر دکھائی دیتا ہے

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے