عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے
عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے
کسی کے لہجے کی کاٹ دیکھو کہ جیسے شہ رگ ہی کٹ رہی ہے
ہزار باتیں بنا رہے ہیں جو میری حالت سے بے خبر ہیں
یہ خلق شہر ستم شعاراں اب اپنی حد سے الٹ رہی ہے
وہ جس کے سائے میں بیٹھ کر ہم کبھی سکون جہاں بتاتے
وہ میری ہمت کی چھاؤں اب تو مرے ہی سر سے سمٹ رہی ہے
کسی کی ہمدردیوں کے پیچھے چھپی ہے اک مصلحت کی دنیا
وہ سانپ بن کر تمام تلخی ہمارے تن سے لپٹ رہی ہے
نہ پوچھ مجھ سے مری کہانی کہ جس کا کوئی سرا نہیں ہے
حیات میری تمہارے غم میں بس ایک صدمے میں کٹ رہی ہے
تمہارے لہجے کی وہ مٹھاسیں کسی کا اب تو نصیب ہوں گی
مگر مری روح کی زمیں اب تمہاری خوشبو سے پھٹ رہی ہے
مری اداسی کے پیچھے دیکھو ہزار چہرے چھپے ہوئے ہیں
یہ میرے دکھ کی پرانی عادت اب ایک تسبیح رٹ رہی ہے
میں ہنس کے ملتا ہوں سب سے لیکن یہ میرا اندر ہی جانتا ہے
یہ روح ساحلؔ ترے الم میں ہزار حصوں میں بٹ رہی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.