Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے

اطیب انور ساحل

عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے

اطیب انور ساحل

MORE BYاطیب انور ساحل

    عجب ہے دنیا کی بے حسی بھی کہ روح زخموں میں بٹ رہی ہے

    کسی کے لہجے کی کاٹ دیکھو کہ جیسے شہ رگ ہی کٹ رہی ہے

    ہزار باتیں بنا رہے ہیں جو میری حالت سے بے خبر ہیں

    یہ خلق شہر ستم شعاراں اب اپنی حد سے الٹ رہی ہے

    وہ جس کے سائے میں بیٹھ کر ہم کبھی سکون جہاں بتاتے

    وہ میری ہمت کی چھاؤں اب تو مرے ہی سر سے سمٹ رہی ہے

    کسی کی ہمدردیوں کے پیچھے چھپی ہے اک مصلحت کی دنیا

    وہ سانپ بن کر تمام تلخی ہمارے تن سے لپٹ رہی ہے

    نہ پوچھ مجھ سے مری کہانی کہ جس کا کوئی سرا نہیں ہے

    حیات میری تمہارے غم میں بس ایک صدمے میں کٹ رہی ہے

    تمہارے لہجے کی وہ مٹھاسیں کسی کا اب تو نصیب ہوں گی

    مگر مری روح کی زمیں اب تمہاری خوشبو سے پھٹ رہی ہے

    مری اداسی کے پیچھے دیکھو ہزار چہرے چھپے ہوئے ہیں

    یہ میرے دکھ کی پرانی عادت اب ایک تسبیح رٹ رہی ہے

    میں ہنس کے ملتا ہوں سب سے لیکن یہ میرا اندر ہی جانتا ہے

    یہ روح ساحلؔ ترے الم میں ہزار حصوں میں بٹ رہی ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے