عیب اپنے کبھی تنہائی میں سارے گننا
عیب اپنے کبھی تنہائی میں سارے گننا
پھر بلا خوف گناہوں کو ہمارے گننا
وہ جو کرتے ہیں بہت نرم ملائم باتیں
ان کے لہجے میں چھپے لفظی شرارے گننا
کس کو ہم درد کہوں کس کو کہوں میں اپنا
میں نے سیکھا ہی نہیں جھوٹے سہارے گننا
ہم پہ الزام لگانا تو بہت ہے آساں
خون دستانوں پہ کتنے ہیں تمھارے گننا
ہم کو پرکھو نہ فقط لفظ کے میزانوں سے
کتنے پوشیدہ غزل میں ہیں اشارے گننا
مسکرانا تو بظاہر مری عادت ہے مگر
آنکھ سے گرتے ہوئے آج ستارے گننا
ہم کو بس اپنے مکانوں کی چھتوں کا ہے خیال
کیا غرض شاہی عمارت کے منارے گننا
اے حبیبؔ اب تو تلاطم میں سنبھالو کشتی
پھر کبھی شوق سے تم لہروں کے دھارے گننا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.