آج تجھے جس شوخ حسیں نے اس جنجال میں ڈال دیا
آج تجھے جس شوخ حسیں نے اس جنجال میں ڈال دیا
اس نے مجھ سے دل مانگا تھا لیکن میں نے ٹال دیا
ایک نویلے جذبے سے نم ہلکی سی سسکاری نے
دھڑکن کی رفتار بڑھائی جذبوں کو بھونچال دیا
پہروں آمنے سامنے بیٹھے لیکن کوئی بات نہ کی
آخری وقت میں اس نے بوسہ میری سمت اچھال دیا
شام ڈھلے جب تنہائی کا خوف بدن پر طاری تھا
تیری یاد کے سندیسوں نے درد مزید اجال دیا
کاغذی پھولوں سے بھی خوشبو حد درجہ محسوس ہوئی
کاڑھ کے اپنے ہاتھوں سے جب اس نے مجھے رومال دیا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.