زندگی کے یہ سوالات کہاں تھے پہلے
زندگی کے یہ سوالات کہاں تھے پہلے
اتنے الجھے ہوئے حالات کہاں تھے پہلے
اب تو اظہار تمنا سے بھی جی ڈرتا ہے
اتنے سہمے ہوئے جذبات کہاں تھے پہلے
حسن اور عشق ہوئے کتنے مقدس ہم سے
اتنے پاکیزہ خیالات کہاں تھے پہلے
آج ہر گام پہ جلتے ہیں چراغ منزل
رہ گزر میں یہ مقامات کہاں تھے پہلے
ہم کو بدلے ہوئے حالات نے بخشا یہ شرف
آپ پابند ملاقات کہاں تھے پہلے
ہم نے میخانے میں ساقی کا بھرم کھول دیا
ہم سے رندان خرابات کہاں تھے پہلے
میری نظروں کے یہ انداز نظر ہیں مضطرؔ
ہر نظر میں یہ پیامات کہاں تھے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.