سراب دشت تمنا میں دن تو ڈھلتا ہے
سراب دشت تمنا میں دن تو ڈھلتا ہے
مگر پہاڑ سا اک درد کب پگھلتا ہے
جو حرف حق کی صدا کو بلند کرتا ہے
ستم گر اس کو سر رہگزر کچلتا ہے
درون ذات کی گہرائیوں میں جھانکوں تو
ذرا سی چاپ ابھرتی ہے دل دہلتا ہے
وہ ایک خواب کہ تعبیر جس کی ممکن تھی
مری گرفت سے قطرہ نما پھسلتا ہے
کسی کی آنکھ کے گوشے میں اک ستارے سا
کوئی تو اشک گراں بار سا مچلتا ہے
گرا ہوا ہے مرا سائبان جاں لیکن
ترے گمان کے سائے میں یہ سنبھلتا ہے
سیاہ رات کا آسیب یوں اترتا ہے
کہ اپنے جبڑے میں سارے دیے نگلتا ہے
مسافروں کی طرح اجنبی سے رستوں پر
کوئی خیال ترا در بدر ٹہلتا ہے
فریب وعدۂ فردا کے جھوٹے قصوں سے
یہ طفل دل مرے یارو کہاں بہلتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.