نکلے ہیں دل خریدنے لعل و گہر سے آپ
نکلے ہیں دل خریدنے لعل و گہر سے آپ
بیگانہ کس قدر ہیں خلوص بشر سے آپ
ہنستے ہیں اس لئے مرے حال تباہ پر
واقف نہیں ہیں لذت درد جگر سے آپ
مجھ سے نہ پوچھئے مرا افسانۂ حیات
یہ راز پوچھ لیجے مری چشم تر سے آپ
آنکھوں میں برہمی ہے تبسم لبوں پہ ہے
کتنے دلوں کو لوٹ چکے اس ہنر سے آپ
موجوں میں بڑھ رہی ہے مری کشتیٔ حیات
ساحل پہ چھپ کے بیٹھے ہیں طوفاں کے ڈر سے آپ
منزل تھی ٹھوکروں میں جواں تھے جب حوصلے
اب تھک کے بیٹھ جاتے ہیں نام سفر سے آپ
تیرہ شبی کے آخری لمحات ہیں قریب
مایوس کیوں ہیں اتنے طلوع سحر سے آپ
ٹوٹا ہوا جو دل ہے تو پھوٹا ہوا نصیب
پوچھیں نہ کچھ مآل تمنا ظفرؔ سے آپ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.