خود میں سمٹ نہ جائے اگر کیا کرے کوئی
خود میں سمٹ نہ جائے اگر کیا کرے کوئی
ہے کوئی دہر میں کہ تمنا کرے کوئی
منزل اگر نہیں نہ سہی رہگزر تو ہو
یا عمر بھر خلاؤں میں بھٹکا کرے کوئی
یہ کیا کہ ایک پیکر نایافت کے لیے
اپنے وجود پر نہ بھروسا کرے کوئی
بے حس ہے خضر تک تو سسکنے سے کیا حصول
ان جنگلوں میں زور سے چیخا کرے کوئی
یہ بے خبر جلو میں ہے کس اعتماد سے
ایسے میں دل کے ساتھ نہ دھڑکا کرے کوئی
رہ جائے صرف ساقیٔ سیمیں بدن کا نام
ہر چیز نذر ساغر و صہبا کرے کوئی
ہے چشم دیگراں سے خطرناک چشم ذات
ڈر ہے تو اپنے آپ سے پردہ کرے کوئی
چہرے پہ کرب و کشمکش و رنج و غم غرض
ایسی شگفتگی کہ تماشا کرے کوئی
وہ بات کون سی ہے جو تجھ سے چھپائی جائے
وہ راز کون سا ہے جو افشا کرے کوئی
آساں ہے شرح نکتۂ دل سے کہ بات میں
اسرار کائنات ہویدا کرے کوئی
ایسی بڑی خطا تو نہیں خواہشوں کا ذکر
کھل جائیے کسی سے تو چرچا کرے کوئی
یہ خوش گماں طہارت و تقویٰ کے جامہ زیب
دم توڑ دیں اگر انہیں ننگا کرے کوئی
تجھ کو تو راست گوئی کی لت پڑ گئی شعورؔ
اے کاش تیرے شعر نہ سمجھا کرے کوئی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.