جہان بھر کے لئے اضطراب دوسرے ہیں
جہان بھر کے لئے اضطراب دوسرے ہیں
ہماری ذات کے لیکن عذاب دوسرے ہیں
اسے نصیب کہیں یا فشار جبر اے دل
کمال ہم کو ملے کامیاب دوسرے ہیں
یہ زخم زار تمنا ہے یاں قیام نہ کر
نہ چھو کے دیکھ انہیں یہ گلاب دوسرے ہیں
مجھے حیات نے بخشی ہیں اور تعبیریں
میں کیا کروں مری آنکھوں میں خواب دوسرے ہیں
ہمیں جو ملتی ہے تعلیم وہ ہے اور ہی کچھ
مگر حیات عمل کے نصاب دوسرے ہیں
مرے شعور مرے فن کا قدردان ہے تو
مگر یہ کیا کہ ترا انتخاب دوسرے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.