یہ جیون ہے سوچ سمجھ کر جیون ساتھی چنیے گا
یہ جیون ہے سوچ سمجھ کر جیون ساتھی چنیے گا
چوک ہوئی تو مرتے دم تک کڑھیے گا سر دھنیے گا
ایک ذرا سی کوتاہی سے بھاری تباہی آئے گی
عشق بلا ہے گہری نظر سے تانے بانے بنیے گا
شعر و سخن میں اپنی الگ پہچان بنانا بہتر ہے
ورنہ ہمیشہ بغض و حسد کی آگ میں جلیے بھنیے گا
دشت سخن میں اندیشہ ہے نو وارد کے بھٹکنے کا
پہلے کسی استاد کی نگرانی میں پڑھیے گنیے گا
یار منافق ہو جائیں تو قطع تعلق لازم ہے
ورنہ لکڑی کی مانند اندر ہی اندر گھنیے گا
ہم نہ رہے تو بزم سخن کی رونق بھی چھن جائے گی
میرؔ کے اس انداز کی غزلیں پھر نہ کسی سے سنیے گا
ایک سحرؔ ہی کیا ہے ساری دنیا آپ پہ مرتی ہے
کچھ تو کہیے کس کس کو دیوار عشق میں چنیے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.