یقین پختہ ہوا تو قدم سنبھلنے لگے
یقین پختہ ہوا تو قدم سنبھلنے لگے
اسی سے جیت کے رستے کئی نکلنے لگے
ہماری کشتی جو تھوڑی سی ڈگمگائی تو
قریب و دور کے دریا کئی اچھلنے لگے
تھے بے خیال تو چھوٹے کئی حسیں لمحے
خیال آیا تو ہم لوگ ہاتھ ملنے لگے
جو اضطراب و الم کی گھٹائیں چھائیں تو
غزل کے سانچے میں جذبات میرے ڈھلنے لگے
جنہیں سمجھتا تھا میں خیر خواہ اور بے لوث
کچھ ایسے دوست بھی اعجازؔ چال چلنے لگے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.