اک نہ اک دن جدا ہی ہوتا ہے
اک نہ اک دن جدا ہی ہوتا ہے
بے وفا بے وفا ہی ہوتا ہے
میں ہوں پہلا اسے بتا دینا
دوسرا دوسرا ہی ہوتا ہے
عشق میں خود کوئی نہیں پڑتا
ہر کوئی مبتلا ہی ہوتا ہے
قافلے کی یہی حقیقت ہے
راہزن رہنما ہی ہوتا ہے
مصلحت کا چلن ہے ہر جانب
ہر ستم اب روا ہی ہوتا ہے
مفلسی فخر ہو نہیں سکتی
طوق غربت سزا ہی ہوتا ہے
عشق کا کوئی حل نہیں ہوتا
یہ مرض لا دوا ہی ہوتا ہے
چاہے بٹ جائے یا پلٹ جائے
راستہ راستہ ہی ہوتا ہے
یہ محبت بھی کیا مصیبت ہے
جس کو چاہو خفا ہی ہوتا ہے
جس کو حاصل ہو قربت جاناں
اس کا ہر دن نیا ہی ہوتا ہے
زندگی کا کوئی بھروسہ کیا
حادثہ حادثہ ہی ہوتا ہے
تم اداسی کہاں چھپاؤ گے
آئنہ آئنہ ہی ہوتا ہے
دل میں جس کو بھی رکھ لیا جائے
دل میں آخر خدا ہی ہوتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.