بس ایک جان ہی باقی ہے جان مت لینا
بس ایک جان ہی باقی ہے جان مت لینا
ہمارے صبر کا تم امتحان مت لینا
سبھی کے سامنے ہم کو بھری عدالت میں
ہمیں بلا کے ہمارا بیان مت لینا
یہ لوگ شہر کے دیہاتیوں سے ظالم ہیں
سو اپنے گاؤں سے ہجرت کی ٹھان مت لینا
فلک زمین پہ تم کو پٹخ کے پھینکے گا
تم آسمان سے اونچی اڑان مت لینا
وہاں سے بعد میں ممکن ہے کوئلہ نکلے
ملے جو مفت بھی ہیرے کی کان مت لینا
ادھار مانگ کے واپس کوئی نہیں کرتا
ہمارے شہر میں کوئی دکان مت لینا
وفا نبھاتا نہیں کوئی عمر بھر فیصلؔ
کسی سے عہد کسی سے زبان مت لینا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.