چونک اٹھتے ہیں ہر آہٹ پہ ڈرے رہتے ہیں
چونک اٹھتے ہیں ہر آہٹ پہ ڈرے رہتے ہیں
لوگ اب چین کی نیندوں سے پرے رہتے ہیں
روز و شب الٹے بنا رکھے ہیں ہم لوگوں نے
رات بھر جاگتے ہیں دن میں مرے رہتے ہیں
سگریٹیں فکر میں جل بجھتی ہیں لیکن مصرعے
میرے کمرے میں دھواں بن کے بھرے رہتے ہیں
عاشقی کی وہ کرامت ہے کہ سبحان اللہ
سوکھ بھی جائیں تو ہم لوگ ہرے رہتے ہیں
یہ حقیقت ہے زمیں کب کی فنا ہو جاتی
اس کا مطلب یہاں کچھ لوگ کھرے رہتے ہیں
جب تلک کن نہ کہے مالک برحق نحریرؔ
سوچ کے تاک پہ منصوبے دھرے رہتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.