بجھی ہے شام طبیعت بھی کوئی خاص نہیں
بجھی ہے شام طبیعت بھی کوئی خاص نہیں
میں آج پھر سے اکیلا ہوں کوئی پاس نہیں
نگاہ بھر کے بھی دیکھے ہے حال پوچھے ہے
کسی کو غم ہے کہ ہم دم نظر شناس نہیں
مریض غم کے ہر اک غم کو ڈھونڈھنے تھا چلا
سکوں ملا ہے کہ جس کی مجھے تلاش نہیں
مرے قریب جو آؤ گے جان جاؤ گے
تھکن ہے روح کی بے شک بدن اداس نہیں
سمیرؔ تم سے گلہ ہے نہ کوئی شکوہ ہے
میں آپ خوش ہوں زمانے سے کوئی آس نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.