اے شب دل فگار آہستہ
اے شب دل فگار آہستہ
چھیڑ اس دل کے تار آہستہ
پہلے پہلے سکون دیتا ہے
عشق کرتا ہے وار آہستہ
تیز نظروں کا جام ہے لیکن
چڑھ رہا ہے خمار آہستہ
معجزے ہوں گے صبر کے بدلے
اے دل بے قرار آہستہ
دن کہیں رات میں نہ ڈھل جائے
اپنی زلفیں سنوار آہستہ
شیشۂ دل ہے ٹوٹنے کے قریب
سنگ دل سنگ بار آہستہ
زندگی نغمۂ حقیقت ہے
اے فسانہ نگار آہستہ
کاغذی ناؤ ہے تلاطم میں
پاؤں رکھ نے سوار آہستہ
چشم نم کا بھرم رہے قائم
دیدۂ انتظار آہستہ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.