تو کیوں جیتی رہی بلبل چمن میں دیکھ کر شبنم
تو کیوں جیتی رہی بلبل چمن میں دیکھ کر شبنم
کہ وہ دامان پاک گل جسے کرتی ہے تر شبنم
نہ دیکھا اس سوا کچھ لطف اے صبح چمن تیرا
گل ایدھر لے گئے گلچیں گئی روتی ادھر شبنم
بھلا گل تو تو ہنستا ہے ہماری بے ثباتی پر
بتا روتی ہے کس کی ہستئ موہوم پر شبنم
پرے ٹک برسیو گلشن سے ہم نازک مزاجوں کے
بہا دیتی ہے رنگ گل کو یاں اے ابر تر شبنم
ترے آگے اسے خورشید کا منہ خوش نہیں آتا
چمن سے ورنہ کیوں جاتی رہی وقت سحر شبنم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.