اپنے ہی آپ سے ملنے کو ترس جائے گی
اپنے ہی آپ سے ملنے کو ترس جائے گی
روح جو جسم میں جائے گی تو پھنس جائے گی
یہ خوشی ابر کے مانند گزر جائے گی
دشت کو چھوڑ سمندر پہ برس جائے گی
مطمئن آنکھ تو ہو جائے گی خوابوں سے مگر
روح سچائی کو دیکھے گی جھلس جائے گی
یاد آئے گی رلائے گی چلی جائے گی
یہ اذیت ہے تیری روح میں بس جائے گی
لگ گیا خون مری چشم کے منہ کو یارو
کس طرح اب مری آنکھوں کی ہوس جائے گی
میں ستاروں سے بہت دور نہیں ہوں سو اب
بد نصیبی مرے معیار پہ کس جائے گی
اپنے اندر کے سمندر کا ہوں تنکا ساحلؔ
جاؤں گا لے کے جدھر موج نفس جائے گی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.