Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اپنے ہی آپ سے ملنے کو ترس جائے گی

ساحل بدایونی

اپنے ہی آپ سے ملنے کو ترس جائے گی

ساحل بدایونی

MORE BYساحل بدایونی

    اپنے ہی آپ سے ملنے کو ترس جائے گی

    روح جو جسم میں جائے گی تو پھنس جائے گی

    یہ خوشی ابر کے مانند گزر جائے گی

    دشت کو چھوڑ سمندر پہ برس جائے گی

    مطمئن آنکھ تو ہو جائے گی خوابوں سے مگر

    روح سچائی کو دیکھے گی جھلس جائے گی

    یاد آئے گی رلائے گی چلی جائے گی

    یہ اذیت ہے تیری روح میں بس جائے گی

    لگ گیا خون مری چشم کے منہ کو یارو

    کس طرح اب مری آنکھوں کی ہوس جائے گی

    میں ستاروں سے بہت دور نہیں ہوں سو اب

    بد نصیبی مرے معیار پہ کس جائے گی

    اپنے اندر کے سمندر کا ہوں تنکا ساحلؔ

    جاؤں گا لے کے جدھر موج نفس جائے گی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے