Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

مہمان چار دن کے اور گھر سمجھ لیا ہے

اتباف ابرک

مہمان چار دن کے اور گھر سمجھ لیا ہے

اتباف ابرک

MORE BYاتباف ابرک

    مہمان چار دن کے اور گھر سمجھ لیا ہے

    ہم نے سراب ہی کو منظر سمجھ لیا ہے

    کتنوں نے کر لیا ہے دنیا کو اب مسخر

    خود کو سکندروں سے برتر سمجھ لیا ہے

    اچھا ہے کیا برا کیا اس بات سے غرض کیا

    بس ذات ہی کو اپنی محور سمجھ لیا ہے

    بھولے کتاب کو ہم پیغام سارا بھولے

    بھٹکے مسافروں کو رہبر سمجھ لیا ہے

    ہوتے سبق نہیں جو اب یاد اس جہاں کو

    ان کو نصاب ہی سے باہر سمجھ لیا ہے

    تہذیب اپنی کھوئی کھو بیٹھے علم سارا

    رنگینئ جہاں کو زیور سمجھ لیا ہے

    خود نقص سے مبرا خود عیب سے ہیں عاری

    اور سب کو راستے کا پتھر سمجھ لیا ہے

    سمجھے گا خاک کوئی اب راز اس جہاں کے

    قطرے نے خود کو ابرکؔ ساگر سمجھ لیا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے