ستم کش برق و باد و باراں شہید گلچین و باغباں ہے
ستم کش برق و باد و باراں شہید گلچین و باغباں ہے
نہ جا تو غنچے کی خامشی پر الف سے یے تک وہ رازداں ہے
نہ قصۂ غم شنیدنی ہے نہ حال دل در خور بیاں ہے
وہ قطرۂ اشک جو مژہ پر مچل گیا اپنی داستاں ہے
قدم قدم پر ہے دام و دانہ نفس نفس پر غم خزاں ہے
میں اس گلستاں سے باز آیا اگر یہی رنگ گلستاں ہے
کلی کے سینے میں راز مخفی گلوں کے عارض پہ حسن عریاں
ترا جمال بہار آرا کہیں نہاں ہے کہیں عیاں ہے
ملا وہ کنج قفس میں ہم کو سکون مایوسی مسلسل
کہ عالم قید و بند کی سختیوں میں آرام آشیاں ہے
تو اشک شبنم کو رائیگاں کہہ کہ خندۂ گل کو کار آمد
مگر مرا تجربہ تو یہ ہے کہ غم مسرت کا پاسباں ہے
گزر چکے رہروان الفت حدود قلب و نظر سے لیکن
تری جبین نیاز ابھی تک اسی طرح وقف آستاں ہے
ہنسیں نہ اہل خرد ہمارے جنوں کی وحشت طرازیوں پر
جسے وہ رہزن سمجھ رہے ہیں دراصل وہ میر کارواں ہے
بہر زمانہ دل و نظر کو چمن میں ہے احتیاط لازم
خزاں بھی ہے ایک آزمائش بہار بھی ایک امتحاں ہے
چمن میں صیاد کا کوئی جاکر اہتمام فریب دیکھے
زباں پہ ذکر بہار رنگیں نگاہ میں شاخ آشیاں ہے
عروج قلب و نظر جو چاہے تو گرد راہ نیاز ہو جا
یہی وہ پستی ہے فیضؔ جس میں بلندی ہفت آسماں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.