غیروں کے لئے کیوں ہمیں ناشاد کریں آپ
غیروں کے لئے کیوں ہمیں ناشاد کریں آپ
اگلی جو محبت تھی اسے یاد کریں آپ
آنکھوں کی ثنا میں غزل اک میں نے کہی ہے
لازم ہے کہ ہر شعر پہ دو صاد کریں آپ
ٹھوکر ہی سے کیا خاک ہو زندہ مرا مردہ
قم اپنی زباں سے بھی تو ارشاد کریں آپ
سہہ سہہ کے ستم ہو گئے مشاق بہت ہم
جب جانیں کہ کوئی ستم ایجاد کریں آپ
ایسی پر اثر تھیں مری آہیں شب فرقت
دل تھام لیں ہاتھوں سے جو پھر یاد کریں آپ
اے یار ابھی حوصلہ ہے چرخ کا باقی
وہ ظلم سے نادم ہو تو بیداد کریں آپ
اے حضرت دل ہو گئے کیوں شیفتۂ حسن
ساتھ اپنے نہ مجھ کو کہیں برباد کریں آپ
اس واسطے سہتا ہوں میں اے یار جفائیں
کچھ دن تو پس مرگ مجھے یاد کریں آپ
یہ ضبط محبت کی ہے تاکید شب ہجر
دم گھٹ کے بھی نکلے تو نہ فریاد کریں آپ
دامن وہ جھٹکتے ہیں تو کہتی ہے مری خاک
برباد ہوں خود مجھ کو نہ برباد کریں آپ
کم کی صفت حسن جو میں نے تو وہ بولے
اب ڈھونڈھ کے معشوق پری زاد کریں آپ
مقتل میں اگر پاؤں سے غیر آئے تو کیا فخر
میں سر کے بل آؤں جو مجھے یاد کریں آپ
اے تو سہی اس نالۂ پر درد سے ہو موم
دل اپنا مری سمت سے فولاد کریں آپ
حسرت نہ یہ رہ جائے حضور آپ کے دل میں
راضی ہوں میں بیداد پہ بیداد کریں آپ
کیا لطف اجاڑا اگر آباد دلوں کو
ویران ہیں جو دل انہیں آباد کریں آپ
سب ان کے ستم سہہ لئے ہم نے تو یہ بولے
اب ظلم کروں وہ کہ بہت یاد کریں آپ
یاں تو کمر ان کی نہیں ملنے کی فصاحتؔ
قصد اب سوئے شہر عدم آباد کریں آپ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.