اب کسی سے مجھے محبت ہو
اب کسی سے مجھے محبت ہو
آپ کو کیوں بھلا شکایت ہو
پھر غزل طرز میر میں کہئے
آج محفل میں پھر قیامت ہو
زخم دل دیکھنے ہی آ جائیں
آپ کو جب کبھی بھی فرصت ہو
ہیں دعا گو ہمارے ماں اور باپ
کیوں نہ گھر میں ہمارے برکت ہو
ان کو سر پر بٹھانا لازم ہے
جن کے قدموں کے نیچے جنت ہو
اوس پہ واجب ہے آنسوؤں کی زکوٰۃ
پاس جس کے غموں کی دولت ہو
لو وفا لے کے آ گئے وارثؔ
جو بھی دنیا میں اس کی قیمت ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.