Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اشک کے قطرے سے نیساں کا اثر رکھتی ہے شمع

محمد رفیع سودا

اشک کے قطرے سے نیساں کا اثر رکھتی ہے شمع

محمد رفیع سودا

MORE BYمحمد رفیع سودا

    اشک کے قطرے سے نیساں کا اثر رکھتی ہے شمع

    سر سے لے کر تا قدم سلک گہر رکھتی ہے شمع

    تو مرے غم سے نہ رویا اور میری خاک پر

    شام سے تا صبح اپنی چشم تر رکھتی ہے شمع

    رہرو سوئے عدم کو جنبش پا کیا ہے شرط

    خانۂ فانوس میں ہر شب سفر رکھتی ہے شمع

    شعلہ پر ہر چند دل پروانے کا بھی ہے نثار

    واسطے جلنے کے پر کیا ہی جگر رکھتی ہے شمع

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے