اشک کے قطرے سے نیساں کا اثر رکھتی ہے شمع
اشک کے قطرے سے نیساں کا اثر رکھتی ہے شمع
سر سے لے کر تا قدم سلک گہر رکھتی ہے شمع
تو مرے غم سے نہ رویا اور میری خاک پر
شام سے تا صبح اپنی چشم تر رکھتی ہے شمع
رہرو سوئے عدم کو جنبش پا کیا ہے شرط
خانۂ فانوس میں ہر شب سفر رکھتی ہے شمع
شعلہ پر ہر چند دل پروانے کا بھی ہے نثار
واسطے جلنے کے پر کیا ہی جگر رکھتی ہے شمع
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.