جو بھی آتے ہیں وہ بس توڑ کے چل دیتے ہیں
جو بھی آتے ہیں وہ بس توڑ کے چل دیتے ہیں
کیسے سمجھاؤں شجر کیسے یہ پھل دیتے ہیں
خوشبو ہوتی ہے تو سینے سے لگائے رکھتے
سوکھ جائیں تو یہ پھولوں کو مسل دیتے ہیں
میں نے دیکھا ہے یہاں رہتے ہوئے دنیا میں
اپنے رہبر ہی یہاں رستہ بدل دیتے ہیں
تم نے بدلے میں دیا کچھ بھی نہیں ہے اس کو
دینے والے تو محبت میں محل دیتے ہیں
کوئی کیا خاک بھروسہ ہی کرے اپنوں پر
اپنے پیروں سے ہی اپنوں کو کچل دیتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.