یاس کا حسرت کا غم کا ہے دھواں اس شہر میں
یاس کا حسرت کا غم کا ہے دھواں اس شہر میں
کوئی چہرہ مسکراتا ہے کہاں اس شہر میں
کھیلتے ہیں شہر کے نادان بچے آگ سے
بچ نہیں سکتا ہے اب کوئی مکاں اس شہر میں
ہم سیہ بختوں کی دنیا جگمگانے کے لئے
کر رہے ہیں لوگ ذکر کہکشاں اس شہر میں
راز دل کہنا یہاں ہے باعث توہین دل
ہم کسی کو کیوں بناتے رازداں اس شہر میں
جن کو اپنوں سے نہ بیگانوں سے کوئی واسطہ
ہیں وہی سچ پوچھئے تو کامراں اس شہر میں
مجھ سے رکھیں رابطہ کاوشؔ مرے احباب کیوں
میں ہوں مثل یوسف بے کارواں اس شہر میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.