Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

یاس کا حسرت کا غم کا ہے دھواں اس شہر میں

کاوش کمال

یاس کا حسرت کا غم کا ہے دھواں اس شہر میں

کاوش کمال

MORE BYکاوش کمال

    یاس کا حسرت کا غم کا ہے دھواں اس شہر میں

    کوئی چہرہ مسکراتا ہے کہاں اس شہر میں

    کھیلتے ہیں شہر کے نادان بچے آگ سے

    بچ نہیں سکتا ہے اب کوئی مکاں اس شہر میں

    ہم سیہ بختوں کی دنیا جگمگانے کے لئے

    کر رہے ہیں لوگ ذکر کہکشاں اس شہر میں

    راز دل کہنا یہاں ہے باعث توہین دل

    ہم کسی کو کیوں بناتے رازداں اس شہر میں

    جن کو اپنوں سے نہ بیگانوں سے کوئی واسطہ

    ہیں وہی سچ پوچھئے تو کامراں اس شہر میں

    مجھ سے رکھیں رابطہ کاوشؔ مرے احباب کیوں

    میں ہوں مثل یوسف بے کارواں اس شہر میں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے